بھٹکل 7/مارچ (ایس او نیوز/نقاش نائطی) 18 سال قبل اڈپی شہر میں مسلم اتحاد کی آواز گونجی تھی اور اس اتحاد کو آگے بڑھانے کے لئے اڈپی ڈسٹرکٹ اوکٹہ نامی ادارہ بنایا گیا تھا. آج 18 سال بعد 4 مارچ 2018 کو اڈپی ضلع کے مشہور سماجی کارکن یسین ملپے کی قیادت میں موجودہ ہندستانی سیاسی مسلم پسماندگی کے پس منظر میں، مختلف الفکری، مسلم متحدہ کانفرنس بلائی گئی تھی. اس کانفرنس میں ہندستان کے چوٹی کے عالم، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان محترم مولانا سجاد نعمانی صاحب، بریلوی دارالعلوم کے محترم مولانا توقیر رضا خان صاحب، اجمیر شریف کے سجادہ نشین حضرت چشتی دیوان سید زین العابدین صاحب ، مکتبہ اہل حدیث کی نمائیندگی کرتے ہوئے مولانا مدنی صاحب سمیت کئی ایک معزز شخصیات حاضر جلسہ تهیں. شروع میں کنوینیر اجلاس یسین ملپے نے کنڑا زبان میں مدبرانہ انداز میں تقریر کرتے ہوئے مسلم اتحاد کی ضرورت پر کئی ایک نکات پیش کئے۔
مقررین میں سے مولانا علی رضا خان نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ حالیہ کچھ سالوں میں ہندستان میں جتنی بھی دہشت گردانہ کاروائیاں ہوئی ہیں اگر غیر جانبدارانہ انداز میں تحقیقات کروائی جائیں تو تمام دہشت گردانہ کاروائیوں کے پیچھے آرایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کا ہاتھ نظر آئیگا . اور کہیں نہ کہیں ان تمام کی کڑیاں پرائم منسٹر مودی تک جاتی پائی جائیں گی۔ مولانا نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں، ہندو شدت پسند پارٹی سے خوف کهاکر کسی بھی پارٹی کی جھولی میں اپنے قیمتی ووٹ دان کی صورت ڈالنے کے بجائے، ہندستان کے ہر علاقہ کے مسلمان، آبادی میں اپنے تناسب کے حساب سے، مختلف مقامی سیکیولر پارٹیوں میں سے کسی اچھی سیاسی پارٹی سے سمجھوتہ کرکے ،سیاسی پارٹنر کی صورت سیاسی دنگل کا حصہ بننا چاہئیے۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ سے منسلک مولانا سجاد نعمانی نے مسلم اتحاد قائم نہ ہو پانے کے لئے، کچھ مسلم قائدین کے اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے، خود کی ذات کو اہمیت دینے، دوسروں میں عیب تلاش کرنے جیسی کمیوں اور خامیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قیام کے وقت کا ایک واقعہ بیان کیا .مولانا نے کہا کہ ہندستان کو انگریزوں سے آزادی دلوانے کے لئے جس طرح علماء ہند نے غدر کی تحریک چلائی تھی 1936 میں انگریزوں کے وقت کے مسلم ایکٹ کو آزادی ہند کے بعد بنائے گئے دستور ہند میں، مسلم پرسنل لاء کی شکل میں نمایاں جگہ دے کر، مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل پیرا رہتے ہوئے، دعوت دین کی آزادی کے ساتھ ہند میں رہنے کی مکمل آزادی دئیے گئیے قانون کو، بعد میں اندرا گاندھی کی طرف سے متبنی بل پارلیمنٹ میں پاس کرواکر، مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کے دروازے جب وا کئے گئے، تب پھر ایک مرتبہ دیوبند کے عالی مرتبت حضرت مولانا قاری طیب علیە الرحمہ نے، مسلم پرسنل لاء کی حفاظت کے لئے 1972 میں ممبئی میں ایک کثیر العوامی اجلاس کی دعوت، ہند بھر کے مختلف مکتبہ فکر کے علماء کو دی تھی. اس وقت ان کی دعوت پر بریلوی مکتبہ فکر کے بڑے مدرسہ کی طرف سے ممبئی اجلاس میں شرکت کا عندیہ یا اشارہ نہ ملنے پر، اپنے عالی مرتبت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، حضرت مولانا نے، نہ صرف خود بریلی کے سفر کا قصد کیا تھا بلکہ بریلی پہنچنے پر اعلی حضرت کا درس جاری رہتے، ہال کھا کچ بھرے رہنے کی وجہ،اپنے وجود اپنی اہمیت کی نفی کے اظہار کے لئے،ہال کے باہر جوتے چپل رکھی جگہ پر ہی بیٹھ کر، اور بعد اجلاس عام لوگوں کی صف میں کهڑے، اعلی حضرت سے مصافحہ کی سعی نے ،اور اعلی حضرت سے ملاقات کے دوران اپنی پگڑی اعلی حضرت کے سامنے رکھتے ہوئے، ملت کی یکجہتی کی بهیک مانگنے کی، ان کی معصوم ادا نے، کئی دہوں کے دیوبند و بریلی کے اختلاف کو یکسر ایک لحظ ختم کر، ممبئی و حیدرآباد کے اجلاس بعد، ہندستانی بیس کروڑ مسلمانوں کے پرسنل لاء بورڈ کے قیام کو وجود بخشا تھا.اور الحمد اللە علماء کرام کے تزکیہ نفس کے جذبہ نے، اس زعفرانی نفرت آمیز ماحول میں بھی، مختلف الفکری مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اتفاق و یکجہتی کو باقی رکھا ہے۔
*مسلم یکجہتی اس کانفرنس میں، ایس ڈی پی ائی اور جماعت اسلامی کے مقررین نے مسلم ایمپورنمنٹ پر مدلل تقریریں کیں.اور اس اقسام کی مسلم یکجہتی کانفرنسز کے ملک کے طول و عرض میں، منعقد کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا .کانفرنس کے حسن انتظام ،کھانے پینے اور نماز باجماعت ادا کرنے کی سہولیات نے، منتظمین کانفرنس کی صلاحیتوں کو خوب اجاگر کیا. ساوتھ کینرا اور نارتھ کینرا کے تقریبا تمام سیاسی سماجی تعلیمی اداروں کے نمائندے اس کانفرنس میں شریک جلسہ تهے تقریبا بارہ سے پندرہ ہزار مرد وزن کا ہجوم آخر تک شریک جلسہ رہا۔